کورونا کے باوجود پاکستانی حکومت معیشت بحال کرنے میں کامیاب رہی،امریکی جریدہ

کورونا کے باوجود پاکستانی حکومت معیشت بحال کرنے میں کامیاب رہی،امریکی جریدہ

کورونا کے باوجود پاکستانی حکومت معیشت بحال کرنے میں کامیاب رہی،امریکی جریدہ

اسلام آباد(روزنامہ اوصاف)امریکہ کے معروف جریدے ’’فوربس‘‘ نے کہا ہے کہ کورونا وباء کے باوجود پاکستانی حکومت محتاط پالیسیوں سے معیشت بحال کرنے میں کامیاب رہی ،اب کل مقامی پیداوار(جی ڈی پی) میں چار فیصد اضافہ کی توقع ہے ۔جریدے کا کہنا ہے کہ وبائی مرض سے نمٹنے کی بھرپور کوششیں اور آئی ایم ایف پروگرام کی کامیابی، جس کا اظہار 4 فیصد کی معاشی نمو سے ہوتا ہے، پاکستان میں ترقی اور سرمایہ کاری کے اچھے مواقع کا ثبوت پیش کرتی ہیں۔اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایسے وقت میں جب امریکا اور بھارت جیسے
 ممالک کو کرونا وائرس سے نمٹنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، ابتدائی اندازوں کے مطابق پاکستان اپنی معیشت کو بحال کرنے میں کامیاب ہوا ہے، جو کہ 2021ء کے لیے ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ تقریباً 4 فیصد کی شرح سے بڑھنا متوقع ہے۔بینک دولت پاکستان نے ابتدا میں جی ڈی پی میں 3 فیصد اضافے کی پیش گوئی کی تھی، جبکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور ورلڈ بینک نے بالترتیب 1.5 اور 1.3 فیصد اضافے کا اندازہ لگایا تھا۔رپورٹ کے مطابق سروسز کے شعبے نے، جس میں ‏2020-21ء کے دوران 4.43 فیصد اضافے کی توقع ہے، مجموعی نمو میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ پاکستان جیسے ملک کے لیے خاص طور پر بہت اہم ہے کہ جو اپنے سروسز کے شعبے کو وسعت دینے میں کامیاب ہو رہا ہے۔ زرعی شعبے کی آگے بڑھنے کی شرح کا اندازہ 2.77 فیصد ہے جبکہ صنعتی شعبہ کے لیے 3.57 فیصد۔بھارت میں 28 لاکھ سے زیادہ مریضوں اور 3 لاکھ 38 ہزار سے زیادہ اموات کی وجہ سے صورتِ حال مایوس کن ہے۔پاکستان میں سوشل میڈیا کے ذریعے بڑھتی ہوئی عوامی آگاہی کی وجہ سے شہریوں نے کرونا وائرس سے بچنے کے لیے ماسک کا استعمال شروع کر دیا۔گزشتہ سال ملک میں عید کے موقع پر کرونا وائرس کے کیس کافی بڑھ گئے تھے، لیکن اس بار جزوی لاک ڈاؤن، غیر ضروری کاروباروں کی بندش اور مقامی سیاحت پر پابندی لگا دی گئی ہے جس نے مرض کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد دی۔البتہ ان پابندیوں نے محنت کش طبقے کے لیے مشکلات پیدا کر دیں۔ البتہ حکومت نے امید ظاہر کی ہے کہ 2021ء کے اختتام تک حالات بہتر ہو جائیں گے۔گزشتہ ہفتے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نے 2.21 حصص تک کا کاروبار ہوا ہے جو تاریخ میں بازارِ حصص کی سب سے زیادہ خرید و فروخت ہے۔پاکستانی سرمایہ کار اور تاجر اگلے عوامی بجٹ سے بھی امیدیں رکھتے ہیں۔گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان رضا باقر کے مطابق لچک دار مالی و مالیاتی پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان کی جی ڈی پی میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ اسٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ میں 625 پوائنٹس کی فوری کمی کی۔ ایک امدادی پیکیج بھی فراہم کیا گیا جو کہ کُل جی ڈی پی کا 5 فیصد تھا۔گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ حکومت نے کرونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورت حال پر قابو بھی پا لیا ہے کیونکہ اس وقت کرونا وائرس کے نئے کیس پاکستان میں 10 لاکھ میں صرف 12 ہیں جبکہ باقی دنیا میں یہ شرح 10 لاکھ پر 62 مریض ہے۔آئی ایم ایف کے گلوبل اکنامک آؤٹ لک کے مطابق 2020ء میں قرضوں کے جی ڈی پی کے ساتھ تناسب میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی۔ ‘بلوم برگ’ نے بھی یہی کہا ہے جبکہ ابھرتی ہوئی معیشتوں کے قرضوں کی شرح میں جی ڈی پی کے لحاظ سے 10 فیصد اضافہ ہوا ہے۔رضا باقر نے کہا کہ حکومت کی محتاط مالی اور مالیاتی پالیسیوں کی بدولت جی ڈی پی کے لحاظ سے قرضوں میں اضافہ نہیں ہوا۔رپورٹ کے مطابق پاکستان میں افراطِ زر کی شرح 7 سے 9 فیصد رہنے کا امکان ہے۔رضا باقر کے مطابق افراطِ زر کی شرح میں حالیہ اضافہ توانائی اور اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے تھا، البتہ حکام طلب کے ممکنہ دباؤ کے خلاف بر وقت ردِ عمل دکھانے کے لیے تیار ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کو 6 ارب ڈالرز کا توسیعی فنڈ دیا۔ باقر رضا کے مطابق پاکستان استحکام اور ترقی کی طرف گامزن ہے۔ حکومت 19 ارب ڈالرز کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو 900 ملین سرپلس میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ زر مبادلہ کے ذخائر 2.7 ارب ڈالرز سے بڑھ کر 16 ارب ڈالرز تک پہنچ گئے ہیں۔ رپورٹ کا کہنا ہے کہ وبا سے بھرپور انداز میں نمٹنے اور آئی ایم ایف پروگرام کی کامیابی کی بدولت پاکستان کو ترقی کرنے اور اچھے سرمایہ کاری مواقع فراہم کرنے کا موقع ملا ہے۔

admin

Leave a Reply

Close
Show Buttons
Hide Buttons