ایک شرط جس پر نواز شریف وطن واپس آ سکتے ہیں

ایک شرط جس پر نواز شریف وطن واپس آ سکتے ہیں

ایک شرط جس پر نواز شریف وطن واپس آ سکتے ہیں

اگر نواز شریف کو کہیں سے یقین دہانی کرا دی گئی کہ پاکستان واپس آنے پر آپ کو گرفتار نہیں کیا جائے گا

تو وہ آ جائیں گے۔ ارشاد عارف

اسلام آباد(اردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 25 اگست 2020ء) حکومت سابق وزیراعظم نواز شریف کو وطن واپس لانے کے لیے ایک بار پھر سے متحرک ہو گئی ہے۔وزیراعظم عمران خان نے  سابق وزیراعظم نواز شریف کو واپس لانے کے لیے تمام ذرائع استعمال کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کا خیال ہے کہ نواز شریف کو جھوٹی میڈیکل رپورٹس بنوا کر باہر بھجوایا گیا تاہم دوسری جانب ن لیگ کے رہنما کہتے ہیں کہ عمران خان اور ان کے وزراء نواز شریف کے بیرون ملک بھیجے جانے کے بارے میں  جعلسازی کا الزام لگا کر یہ بھول جاتے ہیں کہ اس میں خود ان کا کتنا حصہ تھا۔اسی حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ارشاد عارف کا کہنا ہے کہ میں نہیں سمجھتا نواز شریف واپس آئیں گے کیونکہ وہ دوبارہ جیل نہیں جانا چاہیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر نواز شریف کو کہیں سے یقین دہانی کرا دی گئی کہ پاکستان واپس آنے پر آپ کو گرفتار نہیں کیا جائے گا تو وہ آ جائیں گے۔ارشاد عارف نے مزید کہا کہ اگر مریم نواز کی مزاحمتی پالیسی جاری رہی تو پھر مسلم لیگ ن کا ووٹ ٹوٹے گا۔کیونکہ ووٹ اسی پارٹی کو ملتا ہے جس کے بارے میں یہ تاثر ہو کہ ان کی حکومت آئے گی۔بزدار حکومت اگر کوشش کرے تو ایک ماہ کے اندر ن لیگ میں ٹوٹ پھوٹ ہوسکتی ہے۔واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے نواز شریف کو واپس لانے کیلئے قانونی ذرائع استعمال کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالتوں کو مطلوب افراد کو واپس لانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) نے نواز شریف کی صحت پر سیاست کی، ہم اپوزیشن کی بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے۔ اپوزیشن کا فوکس ملکی مفاد نہیں بلکہ شریفوں کے مقدمات سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے۔

admin

Leave a Reply

Close
Show Buttons
Hide Buttons