افغانستان میں انتشار سے پاکستان اور تاجکستان متاثر ہوں گے،مسئلہ کا پرامن حل ناگزیر ہے ،وزیراعظم عمران خان

افغانستان میں انتشار سے پاکستان اور تاجکستان متاثر ہوں گے،مسئلہ کا پرامن حل ناگزیر ہے ،وزیراعظم عمران خان

افغانستان میں انتشار سے پاکستان اور تاجکستان متاثر ہوں گے،مسئلہ کا پرامن حل ناگزیر ہے ،وزیراعظم عمران خان

اسلام آباد(روزنامہ اوصاف)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان اور تاجکستان کو مشترکہ چیلنجز کا سامنا ہے ، پاکستان امریکی فوج کےانخلا کے بعد افغانستان میں امن کےخواہاں ہے ،افغانستان میں انتشار سے پاکستان اور تاجکستان متاثر ہوں گے۔تاجک صدرامام علی رحمن کیساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ تاجک صدر امام علی رحمان کو پاکستان آمد پرخوش آمدیدکہتاہوں ،تاجک صدر امام علی رحمان اور میری تاریخ پیدائش ایک ہے۔وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان اور تاجکستان میں تجارت بہت اہمیت رکھتی ہے،
 دفاعی ،تعلیم اور شعبہ ثقافت پر ایم اور یوز پر دستخط ہوئے ہیں ،تجارت ، سرمایہ کاری ، توانائی ، ثقافت اورتعلیم کے شعبوں میں باہمی تعاون کریں گے۔عمران خان نے کہاکہ پاکستان اور تاجکستا ن کےلیےموسمی تبدیلی ایک چیلنج ہے،پاکستان چاہتاہے کہ افغانستان میں امریکی فوجی انخلا کے بعد مستحکم حکومت قائم ہو،افغانستان کا پر امن حل سب کے لیے بہت ضروری ہے،پاکستان نے افغان امن عمل میں اہم کردارادا کیا،امریکی فوج کےانخلا کے بعد افغانستان میں امن کےخواہاں ہیں،افغانستان میں انتشار سے پاکستان اور تاجکستان متاثر ہوں گے ،وزیراعظم نے کہاکہ 5اگست کے اقدامات واپس لیے بغیر بھارت سے تعلقات بہتر نہیں ہوسکتے ،بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں 5اگست کے اقدامات واپس لینے چاہئیں۔قبل ازیں وزیراعظم عمران خان اور تاجکستا ن کے صدر امام علی رحمان نےتجارت ، سرمایہ کاری ، توانائی ، ثقافت اورتعلیم کے شعبوں میں تعاون کے معاہدوں پر دستخط کیے ۔

تاجک صدر امام علی رحمان نے مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ  خطے میں امن کے لیے پاکستان نے بڑی کوششیں کی جن کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ،پاکستان نے افغان امن عمل کے لیے اہم کردار اداکیا،دہشت گردی  کےخاتمے کے لیے تمام ممالک کواقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن  خطے میں امن سے مشروط  ہے،اسلام  فوفیا  کے خلاف عالمی سطح پرآواز اٹھائیں گے ،جغرافیائی حوالے سے پاکستان خطے کا اہم ملک ہے،گوادر  منصوبہ   اہمیت کاحامل ہے،پاکستان کے ساتھ ٹیکنالوجی سمیت دیگر شعبوں میں  تعاون جاری رکھیں گے ،صورتحال بہتر ہونے پر پاکستان کے ساتھ توانائی کےشعبے میں کام کریں گے،تاجک صدر نے کہاکہ تاجکستان پاکستان کے ساتھ   تجارتی  تعلقات  کاخواہاں ہے ،ہم نے  دونوں ممالک  کے درمیان  بہترتعلقات سمیت دیگرامور پر بات کی پاکستان اور تاجکستان میں مختلف شعبوں میں یاداشتوں پر دستخط  خوش آئند  ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کوروناصورتحال  میں بہترین اقدامات کیے ۔امام علی رحمان نے وزیراعظم عمران خان کو تاجکستان کے دورے کی دعوت بھی دی ۔

admin

Leave a Reply

Close
Show Buttons
Hide Buttons